عدالت کا بڑا حکم، ن لیگ بڑی مشکل میں پھنس گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر نیب کو مریم نواز سے قبل نواز شریف پر جرم ثابت کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے لندن کے اپارٹمنٹس اور نواز شریف کے درمیان تعلق پر نیب سے چار سوالات کے جوابات بھی مانگ لیے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئےآپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ پراپرٹیزنواز شریف نے خریدیں،اورمریم نوازنے مدد کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کےجسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پرمشتمل دورکنی بینچ نے مریم نواز کی اپیل پرسماعت کی،،مریم نواز اور ان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیئے کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی خریداری میں نواز شریف کی اعانت کی جس پر عدالت نے کہا کہ 1993ء سے 1996ء میں جب نواز شریف نے پراپرٹی ایکوائر کی تو آپ کو بتانا ہے مریم نواز نے کیا مدد کی۔جسٹس عامر نے پوچھا کہ آپ کو پھر بتانا ہے 1993ء میں مریم نواز نے جائیداد لینے میں مدد کی یا تو آپ بتائیں مریم نواز کا کردار 1993ء میں جائیداد لینے میں تھا یا پھر بتائیں ٹرسٹ ڈیڈ بنا کر اُس جائیداد کو بنانے میں 2006ء میں مدد کی، آپ خود کو بند گلی میں لے کر جا رہے ہیں۔

جسٹس عامر نے نیب سے کہا اگرمریم نے اثاثے بنانے میں معاونت کی تو پھر ٹرسٹ ڈیڈ اور کیلبری فونٹ کو چھوڑ کر 1993ء سے چلیں۔ اس پرنیب نے کہا کہ ہم اس معاملے کو 2006ء میں ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ لے کر چلیں گے جس پر جسٹس عامر نے کہا کہ پھر تو 1993ء میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں ہوا۔نیب نے کہا جی بالکل،جسٹس عامر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے 1993ء میں اثاثے خریدے اور چھپائے تو آپ کو پھر شواہد سے ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی مدد او معاونت کیسے کی؟عدالت نے ہدایت دی کہ نیب یہ بھی بتائے کہ اپارٹمنٹس خریدنے کے لیے ادائیگی نواز شریف نے کی،نواز شریف کا کمپنیوں کے ساتھ تعلق ثابت کریں، کمپنیوں کا فلیٹس کے ساتھ تعلق ثابت کریں، فلیٹس 1993ء میں خریدنا ثابت کریں پھر اس کے بعد مریم نواز کا فلیٹس سے تعلق ثابت کریں، اس سے زیادہ آسان زبان میں نیب سے سوال نہیں کرسکتے۔

نیب پراسیکیوٹربولے،ہماری آج کے لیے بس ہوگئی ہے،عدالتی سوالات کے جواب کے لیے مزید وقت دیاجائے،عدالت نےکیس کی کارروائی انتیس ستمبر تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں