قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ہے کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے ازخود نوٹس لیا۔پانچ دن سماعت کرکے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا. سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا فیصلہ بھی تین دن میں سنایا. ججز نے اپنی چھٹیاں قربان کیں اور زیر التواء مقدمات میں گزشتہ دس سال کے رجحان کو کم کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ چارج سنبھالتے ہی سستا اور فوری فراہمی انصاف، زیر التوا مقدمات، از خود نوٹس کے اختیارات کا استعمال جیسے چیلنجز درپیش تھے۔خوشی ہے زیر التواء مقدمات کی تعداد 54 ہزار 134 سے کم ہو کر 50 ہزار 265 تک پہنچ گئی ۔ صرف جون سے ستمبر تک 6 ہزار 458 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ آئندہ 6ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے۔فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے یقین ہے زیر التوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی۔

چیف جسٹس نے کہا ججزتقرریوں کے سلسلے میں بار کی معاونت درکار ہے۔ مارچ 2022 سے ہونے والے سیاسی ایونٹس کی وجہ سے سیاسی مقدمات نئے عدالتوں میں آئے۔ دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا اس کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔ آگاہ ہیں ملک کو معاشی بحران اور بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کیلئے ججز نے 3 دن اور عدالتی ملازمین نے دو دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔

نئے عدالتی سال سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل حفیظ چوہدری اور صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں