بجلی صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا

لاہور ہائی کورٹ کا عوام کیلئے بڑا ریلیف ۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی وصولی سے روک دیا ۔ صارفین کو اضافی ٹیکس نکال کر بل جمع کرانے کا حکم دیا ۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد وحید نے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی وصولی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ۔ عدالت نے وفاقی حکومت، ایف بی آر، لیسکو سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔ عدالت نے اسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کر کے چودہ ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم بھی دیا ۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی، جس سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ۔ لہذا عدالت بجلی کے بلوں میں شامل فیول ایڈجسٹمنٹ کو غیرقانونی قرار دے کر کالعدم کرے ۔

 وزیر  توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے، ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پرفیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (ایف اے سی) ختم کردیے، مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ صارفین کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کیے گئے ہیں، ایف اے سی کی مد میں 22 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو دیا ہے۔ تاجروں پر فکسڈ ٹیکس بھی ختم کردیا گیا ہے، اب پرانے طریقہ کار پر ہی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

وزیرتوانائی  نے کہا، تھر کول کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جارہا ہے، تھرکول میں شنگھائی الیکٹرک کا بجلی بنانے کا منصوبہ جلد مکمل ہوگا،2018 سے سولر انرجی کے سیکٹر پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں