مودی نے کشمیریوں پرظلم وستم کےپہاڑ توڑ دیئے

فاشسٹ مودی نےتین سال قبل آج ہی کے روز مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا غیرقانونی حصہ بنانے کی سازش کا عملی آغاز کیا،بھارت نے مقبوضہ وادی کا خصوصی تشخص ختم کرنے کے بعدکشمیریوں پرظلم وستم کےپہاڑ توڑ دیئے، ان تین برسوں میں پانچ سو سے زائد مظلوم کشمیریوں نےجام شہادت نوش کیا،ہزاروں زخمی اور معذور ہوگئے، سیکڑوں نوجوان کو گھروں سے اٹھا کر اذیت خانوں میں ڈال دیاگیا .

پانچ اگست دو ہزار انیس کوہٹ دھرم مود ی نے فاشسٹ نظریہ کے تحت صدارتی احکامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی تشخص ختم کردیا، عوامی مخالفت کے خوف سے کئی کشمیری رہنماؤں کو جیل میں ڈال کرمقبوضہ کشمیر میں لامحدود مدت کیلئے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا، لیکن نہتےکشمیریوں نےاپنے آہنی عزم اور ہمت سےبھارتی سامراج کا ہروار ناکام بنادیا ہے.

مقوضہ کشمیر میں تین سال کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی گئیں،قابض فوج نے اس عرصہ میں اب تک 515سے زائد نہتے کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا، صرف دو ہزار اکیس میں 210 کشمیری آزادی کی شمع پر قربان ہوئے، بھارتی قابض فوج گھر گھر تلاشی کے بہانے بے گناہ کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑرہی ہے ،ہزاروں نوجوانوں کو گھرسےاٹھا کرغائب کردیا جاتا ہے، پلیٹ گنوں سے ہزاروں کشمیریوں کی آنکھیں بے نورہوگئیں لیکن بھارت ان آنکھوں سےآزادی کےخواب نہیں چھین سکا.

عالمی میڈیا کی رپورٹ میں مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے، مقبوضہ وادی میں 6 ہزار سے زیادہ نامعلوم قبریں دریافت ہو چکی ہیں ان میں زیادہ تر ان کشمریوں کی قبریں ہیں جنہیں بھارتی فورسز نے غائب کیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں