سندھ اوربلوچستان میں مون سون بارشوں کا 62 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

سندھ اوربلوچستان میں مون سون بارشوں کا 62 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ بلوچستان میں مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اموات کی تعداد 166 ہوگئی۔ نواب شاہ میں گیسٹرو وباء سے ایک اوربچی جان کی بازی ہار گئی ۔ گھوٹکی میں لوگ پیاروں کے جنازے برساتی پانی سے لیکرگذرنے پر مجبورہوگئے.

جولائی میں اتنی بارش ہوئی کہ ریکارڈ ہی ٹوٹ گئے۔سندھ اوربلوچستان میں پچھلے 62 سال میں اتنی بارشیں نہیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 450فیصد اور سندھ میں 308 فیصد زائد بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔کہا جارہا ہے کہ اگست میں مون سون کا چوتھا اسپیل تیز بارشوں کا سبب بنے گا ۔

پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق بلوچستان میں بارشوں سے 15ہزار 337 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔بارشوں سے 23 ہزار مال مویشی بھی مارے گئے ہیں جبکہ دو لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

اِدھرڈیرہ بگٹی میں کنہال ڈیم کے اوور فلو ہونے سے سپیل وے ٹوٹ گیا،،جس کے باعث کئی کچے مکانات منہدم اورہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آگئی ہے۔جبکہ نواب شاہ میں گیسٹرو نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

گھوٹکی میں برساتی پانی نہ نکالے جانےکےباعث لوگ پیاروں کے جنازے پانی سے لیکر گذرنے پر مجبورہیں۔ میت کی پانی سے گذرتی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں