بلوچستان میں خوفناک سیلاب

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کا قہر جاری۔ کوئٹہ، بولان ، ژوب، دکی، خضدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی اور قلعہ سیف اللہ میں سیلاب موت کا پیغام بن گیا۔ کوئٹہ زیارت شاہراہ ڈوب گئی۔۔ڈیم ٹوٹ گیا۔مختلف حادثات میں 120 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شمالی بلوچستان میں موسلادھار بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ۔ طوفانی بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی نے صورتِ حال مزید ابتر کر دی ۔ سیلاب سے کوئٹہ ،زیارت شاہراہ ڈوب گئی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔

بلوچستان میں لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہوں پر آمدورفت معطل ہوگئی۔ دراڑیں پڑنےسے سڑکیں دھنس گئیں۔ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 2 افراد میں سے ایک کی لاش نکال لی گئی۔حب میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پاک فوج کی جانب سے ریلیف ریسکیو آپریشن جاری۔لاکھڑا روڈ پر ریسکیو ریلیف کے منتظر خاندانوں کیلئے 150 پیکٹ اشیائے خوردونوش بھیج دی گئیں ۔

ڈیرہ بگٹی سمیت کئی علاقوں میں وقفے وقفے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلا جاری ہے۔ سبی میں بھی باشیوں سے اب تک 5 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور درجنوں گھر منہدم ہوئے ہیں۔

لسبیلہ میں پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق۔ آپریشن کے دوران ضلع لسبیلہ کے علاقوں اڑکی،اتھل اور لاکھڑا میں راشن اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی امدادی کارروائیاں جاری۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق۔ پاک فضائیہ کے اہلکار اور ہیلی کاپٹر بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔گزشتہ دو روز کے دوران 4 ہزار 200 کلو گرام راشن تقسیم کیا۔

بلوچستان میں نقصانات سے متعلق پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارشوں کے دوران 12 ہزار 320 مکانات منہدم ہوئے۔سیلابی ریلہ لک پاس کسٹمز کے ویئرہاؤس سے قیمتی سامان بہا لے گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں