سرکاری ملازمین کےلیے بُری خبر

قومی اسمبلی اجلاس میں   تنخواہ دار طبقے پر ریلیف ختم کردیاگیا، نئی ٹیکس شرح کی ترامیم منظور کر لی گئیں، جس کے بعد پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں سے دو اعشاریہ پانچ فیصدکی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا۔ایک سے دو لاکھ تنخواہ پر پندرہ ہزار روپے فکس ٹیکس لیا جائے گا۔ ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تنخواہ پر بیس فیصد ماہانہ ٹیکس دینا ہوگا۔ماہانہ تین سے پانچ لاکھ تنخواہ پر پچیس فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

نئی ترامیم کے تحت ماہانہ50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں پر2.5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا،،،ایک لاکھ سے2لاکھ روپے تک تنخواہ پر سالانہ15 ہزار روپے فکس ٹیکس اور اضافی رقم پر12.5فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

ماہانہ2 لاکھ سے3 لاکھ تنخواہ پر ایک لاکھ 65 ہزار روپے سالانہ جبکہ 2 لاکھ سے اضافی رقم پر20 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا،،،3 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں پر4 لاکھ 5 ہزار روپے سالانہ جبکہ 3لاکھ سے اضافی رقم پر25 فیصد ماہانہ ٹیکس دینا ہوگا۔

5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں پر10 لاکھ روپے سالانہ اور5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس لاگو ہوگا،،،ماہانہ 10 لاکھ سے زائد تنخواہ پر29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

15کروڑ سے 30 کروڑ روپے سالانہ آمدن پر ایک سے4فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی شق منظور کی گئی ہے جبکہ 30کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن والے 13 شعبوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ایئرلائنز، آٹوموبائل، مشروبات، سیمنٹ، کیمیکل، سگریٹ، فرٹیلائزر، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائننگ، فارماسیوٹیکل، شوگر اور ٹیکسٹائل پر 10فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا،،،جبکہ بینکنگ سیکٹر پرمالی سال 2023 میں10فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں